خاطب
اٹھائیس تاریخ
(ایک کلرک کی بیوہ، میاں کی مزار پر)
روز لڑ لڑ کو جان کھا کھا کو
اچھا جنگل میں سوگئے آکو
منڈی کاٹی کو پہلے مرنا تھا
لے کو مٹھی میں جان بیٹھی ہے
ایسا مرنا بھی کئیکا مرنا جی
گھر میں بیٹی، جوان بیٹھی ہے
❦ ❦ ❦
کتے لوگاں کے پاواں پڑ پڑ کو
گھر سے میت کو میں اُٹھائی ہوں
جینا مرنا تمارا قرضے کا
آج پھولاں اُدھار لائی ہوں
یتا احسان ہم پو کرنا تھا
تنخوا لینے کے بعد مرنا تھا
٭ ٭ ٭