خاطب
چھورا چھوری
(سلیمان خطیب کی مزاحیہ نظم)
دلہن کی ماں:
بولو خالہ مزاج کیسے ہیں؟
کتنے برسوں کے بعد آئی ہو!
مسی ہونٹوں پہ، آنکھ میں کاجل
جیسے پیغام کوئی لائی ہو!
اُنگلی ناخن کو، کچھ تو ناطہ ہے
اپنا اپنوں کے گھر کو آتا ہے
❦ ❦ ❦
دُلہے کی ماں: ایدے!
میرے چھورے کو چھوری ہونا ہے
میرا چھورا تو پکا سونا ہے
تُمے دل میں ذرا نکو سوچو
ہاتھ آیا سو ہیرا کھونا ہے
چار لوگاں میں اِس کی اَبرو ہے
جیسے کیوڑے کے بن میں خوشبو ہے
کھلے دل کی ہوں سب بتاتی ہوں
بات پہلیچ میں سناتی ہوں
تُمے کاں تو بی لڑنے بیٹھینگے
کھلا مکلائچ میں بتاتی ہوں
چھورا تِرپٹ ہے ہور للا ہے
سیدھی آنکھی میں اُس کی پھلا ہے
منھ پو چیچک کے خالی داغاں ہیں
رنگ ڈانبر سے جرا کھلا ہے
ناک نقشے کا کتا اچھا ہے
میرا بچہ تو بور بچہ ہے
جا کو لندن سے جھاز میں آیائے
سچے باوا کا سچا بیٹا ہے
اس کے دادا بھی سو پو بھاری تھے
یوں تو کم ذات کے مداری تھے
کنولے جھاڑاں کی سیندھی پیتے تھے
کیا سلیقے کا جینا جیتے تھے
پی کو نکلے تو جھاڑ دیتے تھے
باوا دادا کو گاڑ دیتے تھے
اچھے اچھے شریف لوگاں کے
جڑ سے پنجے اُکھاڑ دیتے تھے
بئیکاں دروازے بند کرتے تھے
بچّے گوداں میں ڈر کو مرتے تھے
گانجہ جنت میں گنج ملنے دیو!
دم لگانے کی ان کو عادت تھی
اللہ اُن کو کلال کرنے دیو!
پینے کھانے کی اُن کو عادت تھی
❦ ❦ ❦
دلہن کی ماں:
یہ تو دُنیا ہے ایسا ہوتا ہے
کوئی پاتا ہے کوئی کھوتا ہے
ایسے ویسوں کے دن بھی پھرتے ہیں
سر سے شاہوں کے تاج گرتے ہیں
میری بچی تو خیر جیسی ہے
بولو مرضی تمہاری کیسی ہے؟
❦ ❦ ❦
دُلہے کی ماں: ایدے!
چھوری پھولاں میں پھول دِسنا جی
بھولی صورت، قبول دِسنا جی
اس کے لکّھن سے چاندنی پڑنا
چان، پاواں کی دُھول دِسنا جی
منھ کو دیکھے تو بھوک سَر جانا
پیاسے اَنکھیاں کی پیاس مَر جانا
لچکے کمر تو بید شرمانا
لپکے چوٹیاں تو ناگ ڈر جانا
زُلفاں لوبان کا دُھواں دِسنا
لال ہونٹاں پو گُمچی مر جانا
اچھے گن کی ہو، اچھا پاؤں ہو
گھر میں لچھمی کے سر کی چھاؤں ہو
ہنڈیاں دھونے کی اس کو عادت ہو
بوجھا ڈھونے کی اس کو عادت ہو
سارے گھر بار کو کھِلا دے کو
بھکا سونے کی اس کو عادت ہو
پاک سیتا ہو سچّی مائی ہو
پوری اللہ میاں کی گائی ہو
گلا کاٹے تو ہنستے مر جانا
بیٹی دُنیا میں نام کر جانا
❦ ❦ ❦
دلہن کی ماں:
آپ باتیں مزے کی کرتے ہیں
کتنے افراد گھر میں رہتے ہیں؟
❦ ❦ ❦
دُلہے کی ماں:
بارہ ننداں کا کام کرنا ہے
پورے شادیاں تمام کرنا ہے
چار دیور کی ذمہ داری ہے
بڈھی نانی تو سب کی پیاری ہے
ساس سسرے ابھی سلامت ہیں
ابھی سمدھن کا پاؤں بھاری ہے
اللہ صاحب کے سارے کاماں ہیں
سلسلہ اب تلک بھی جاری ہے
❦ ❦ ❦
دُلھن کی ماں:
لینے دینے کی بات ہو جائے
معاملہ ایک سات ہوجائے
❦ ❦ ❦
دُلھے کی ماں:
بھار والے تو بھوت پوچھیں گے
گھر کا بچہ ہے، گھر کا زیور دیو
ریڈیو، سیکل، تو دُنیا دیتی ہے
اللہ دے رئے تو ایک موٹر دیو
بھوت چیزاں نکو جی تھوڑے بس
ایک بنگلہ ہزار جوڑے بس
جوڑے گھوڑے کو لے کو دھونا ہے
خالی پچیس ہزار ہونا ہے
مان میرا بڑھانا دیکھو ماں
اچھی ساڑی پنانا دیکھو ماں
کھانے پینے کے میرے لوگاں ہیں
مٹھی سیندھی پلانا دیکھو ماں
کاں تو شربت پلا کو نھاٹیں گے
میری، دُنیا میں ناک کاٹیں گے
❦ ❦ ❦
دُلھن کی ماں:
کچھ تو عارس کو لائیں گے خالہ؟
کیا چڑھاوا چڑھائیں گے خالہ؟
❦ ❦ ❦
دُلھے کی ماں:
جوڑے لانا بھی راس نئیں ہمنا
نتھ چڑھانا بھی راس نئیں ہمنا
ہم ولیمہ تو کب بی دیتے نئیں
کھانا دانا بھی راس نئیں ہمنا
مہر وَتاچ جتی سنت ہے
بھوت بننا تو سب حماقت ہے
❦ ❦ ❦
لڑکی کا باپ (عبرت آمیز لہجے میں):
جس کی بچی جوان ہوتی ہے
اُس کی آفت میں جان ہوتی ہے
بوڑھے ماں باپ کے کلیجے پر
ایک بھاری چٹان ہوتی ہے
بہنیں گھر میں جوان بیٹھی ہیں
بھائی چپ ہے کہ کہہ نہیں سکتا
ماں تو گھل گھل کے خود ہی مرتی ہے
باپ بیٹی کو سہہ نہیں سکتا
جی میں آتا ہے اپنی بچی کو
اپنے ہاتھوں سے خود ہی دفنا دیں
لال جوڑا تو دے نہیں سکتے
لال چادر میں کیوں نہ کفنا دیں
یہ بھی دُلہن ہے گھر سے جاتی ہے
موت مفلس کو کیا سہاتی ہے
یہ سہاگن ہے اس کو کندھا دو
ہم نے خونِ جگر سے پالا ہے
اُس کی تُربت پہ یہ بھی لکھ دینا
زَر پَرستوں نے مار ڈالا ہے
ایسے کتنے ہی ماہ پارے ہیں
زَر گزیدہ ہیں زَر کے مارے ہیں
کیوں اُجڑتا ہے باغ مفلس کا
کس نے دیکھا ہے داغ مفلس کا
”شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے
دِل ہوا ہے چراغ مفلس کا“
(میرؔ)
٭ ٭ ٭