خاطب
عید کے دن
(ایک یتیم لڑکا اپنی ماں کی قبر پر)
توچ بیگلا بنا کو چھوڑی ہے
غیر لوگاں کا کیا گلہ امّاں
تیرا سایہ جو اُٹھ گیا سر سے
کوئی سایہ نہیں مِلا امّاں
تیرے مرتیچ مر گئی دُنیا
کون جانے کدھر گئی دُنیا
❦ ❦ ❦
تیری تربت پہ موتیاں برسو
چار آنسو چڑھانے لایا ہوں
ننگے پاواں سے پھٹے کپڑیاں سے
عید کا کرنے سلام آیا ہوں
کون پوچھیں گے ہم یتیماں کو
کون آتا ہے غم اُٹھانے کو
سارے لوگاں ہیں سب کتاباں میں
ماں کا سایہ نہیں زمانے میں
٭ ٭ ٭