خاطب
ہراج کا پلنگ
(سلیمان خطیب کی مزاحیہ نظم)
پٹی میں جس کی لرزہ
پایے میں جس کے رعشہ
ہر چیز کانپتی ہے
کس کا پلنگ باشا ہراج ہوگیا ہے
❦ ❦ ❦
کروٹ بدل کے دیکھو
بجتا ہے کیسے تاشا
مردوں کے مال پو ہے
زندوں کا کیا تماشا
سوئے ہیں اِس پو ایسا
اُٹھنے کی کِس کو آشا
کس کا پلنگ باشا ہراج ہوگیا ہے
❦ ❦ ❦
بیٹھے تو بس تخت ہے
لیٹے تو پورا تختہ
کلمہ نبیؐ کا پڑ لئیو
سیدھا ہے یاں سے رستہ
باندھونا باشا بستہ
کھانے کو کیا ہے سستا
پاواں ہیں اس سے باہر
روتا ہے کوئی ہنستا
کس کا پلنگ باشا ہراج ہوگیا ہے
❦ ❦ ❦
ہر جوڑ ڈھیلی ڈھیلی
کیلا ہے ڈھیلا ڈھیلا
اِک بار میں جو کیلا
سو بار وہ بھی کیلا
اس کو بڑھئی نے چھیلا
یاروں نے ہم کو چھیلا
دیمک نے اس کو چاٹا
چیچک سے ہم بھی چیلا
فاقوں سے ہم بھی پیلے
اس کا بھی رنگ پیلا
کس کا پلنگ باشا ہراج ہوگیا ہے
❦ ❦ ❦
جھنگر کا کارخانہ
کھٹمل کا ہے ٹھکانہ
مچھر کا شامیانا
پسو کا کاٹ کھانا
کیا کیا مزے ہیں یارو
ہر، ہر جگہ کھجانا
چر چر پلنگ کا گانا
تندانا تانا تانا
پنتی میں تیل نئیں ہے
اندھوں کا ہے زمانہ
کس کا پلنگ باشا ہراج ہوگیا ہے
❦ ❦ ❦
آیا ہے جب سے گھر میں
میلہ لگا ہوا ہے
بچوں کا شور گھر میں
بیوی کا بھی گلہ ہے
کیسا پلنگ ہے یہ
اندر سے کھوکھلا ہے
ہمسایہ ہم سے پوچھا
حضرت یہ کیا بلا ہے
کیسے ہیں بال بچے؟
ڈولا کہاں چلا ہے
کس کا پلنگ باشا ہراج ہوگیا ہے
❦ ❦ ❦
لیڈر تھا اک ہمارا
اک آنکھ کا بچارا
کیا جھوٹ کا پٹارا
کیا پاپ کا پسارا
باتوں میں جیسے خنجر
چلنے میں جیسے آرا
ہر چیز بک رہی ہے
جب سے چناؤ ہارا
یہ ہے پلنگ اس کاچ ہراج ہوگیا ہے
❦ ❦ ❦
کتے سفید چوراں
سوئے تھے اس پو باشا
کتے کلب کے حوراں
سوئے تھے اس پو باشا
کتے حرام خوراں
سوئے تھے اس پو باشا
اک باپ تھا بچارا
اس نے اسے سنوارا
آنسو کی ہر لڑی میں
سلمہ، کرن، ستارا
بیٹی چلی ہے گھر سے
گھر میں ہوا اندھارا
جاتا ہے خود اسی پو
قرضوں نے اس کو مارا
یہ ہے پلنگ اس کاچ ہراج ہوگیا ہے
٭ ٭ ٭