خاطب
کیا خوب پڑوسی ہے پڑوسی بھی ہمارا صورت سے نظر آتا ہے منحوس بیچارا
دیوار کے اُس پار ہے صدقے کا اُتارا ہر روز نکلتا ہے یہ دُمدار ستارا
منھ صبح نظر آئے تو کھانا نہیں مِلتا اِنسان بھٹکتا ہے ٹھکانا نہیں مِلتا
❦ ❦ ❦
تقریب میں جانا ہو تو زیور مرے گھر کا سرکار چلے دورے پہ بستر مرے گھر کا
ورزش کا بڑا شوق ہے مگدر مرے گھر کا مر جانے کو جی چاہے تو خنجر مرے گھر کا
اُس پر یہ حماقت کہ اکڑ جاتا ہے مرغا پر مار کے لڑنے پہ اُتر آتا ہے مرغا
❦ ❦ ❦
وہ شورِ قیامت ہے کہ اللہ بچائے مر کر ہی کوئی آنکھ لگائے، تو لگائے
یوں خیر سے جو میرؔ کی شامَت کبھو آوے امّاں کبھو ناچے ہے تو باوا کبھو گاوے
اِس غولِ بَیابانی میں کیا کیا نہیں ہوتا اُلّو کا یہ پٹھا ہے کہ شب بھر نہیں سوتا
❦ ❦ ❦
ہانڈی میں ہے سالن نہ چنگیری میں ہے روٹی اس چِیل کی نظروں سے بچی تن پہ نہ بوٹی
کیا عرض کروں آپ سے اِک بات ہے چھوٹی یہ ننگا منگاتا ہے مِرے گھر سے لنگوٹی
اور خود کو بتاتا ہے سلاطین سلف سے اور سید سادات ہے جورُو کی طرف سے
❦ ❦ ❦
چوروں کی طرح رات میں کمپونڈ کو توڑے دس بارہ کبھی بھینس مِرے باغ میں چھوڑے
سنڈاس کا پانی کبھی گھر میں مرے موڑے وہ زورِ ذلالت کہ شرافت کو جھنجھوڑے
خونخوار درِندہ ہے اِسے مار کے پھینکو صدقے کا بھلاواں ہے ذرا وار کے پھینکو
❦ ❦ ❦
گھلتا ہے بِچارا کہ مجھے کام نہیں ہے ہر راز مرا راز ہے کیوں عام نہیں ہے
بچی کو مرے کس لئے پیغام نہیں ہے ہمسایہ مرا کس لئے بدنام نہیں ہے
راتوں میں مرے دیر سے آنے کا تردُّد بیوی جو کہیں جائے تو جانے کا تردُّد
❦ ❦ ❦
دُنیا میں کسی سے بھی محبت نہیں اس کو وہ کون ہے جس سے کہ عداوت نہیں اس کو
کس لت کی بھلا خیر سے رغبت نہیں اس کو کس چیز کی ہر وقت ضرورت نہیں اس کو
کہنے کی نہیں بات پڑوسن کی ضرورت شوہر کو کبھی پٹینے بیلن کی ضرورت
❦ ❦ ❦
مرغی کبھی مر جائے تو ہم پر ہی شبہ ہے بچہ کوئی ڈَر جائے تو ہم پر ہی شبہ ہے
چھو چھا کوئی کر جائے تو ہم پر ہی شبہ ہے صدقہ کوئی دھر جائے تو ہم پر ہی شبہ ہے
بانکا جو گذر جائے کبھی راہِ گذر سے بیوی کو بھی دیکھا کئے مشکوک نظر سے
❦ ❦ ❦
ہمسایہ کے لونڈے ہیں کہ چوروں کے نمونے بچوں کے اُڑا لیتے ہیں چپکے سے کھلونے
سمجھا کے ذرا پوچھو تو لگ جاتے ہیں رونے ماں باپ چلے آتے ہیں اُلٹا ہمیں دھونے
لڑنے پہ اُتر آئیں تو سب ہیچ اَکھاڑے زندوں کو سبھی گاڑ کے مردوں کو اُکھاڑے
❦ ❦ ❦
اُٹھو مِری دُنیا کے شریفو اِدھر آؤ مردودِ زمانہ سے مجھے آکے بچاؤ
اِبلیس کے فِتنے کو ذرا آکے مٹاؤ یا چار کے کندھوں پہ مرا لاشہ اُٹھاؤ
اِنجیل بتاؤ اِسے قرآن بتاؤ محبوبِ خدا کا اُسے فرمان بتاؤ
❦ ❦ ❦
کیا شان ہے ہمسایہ کی وہ شان بتاؤ اِنسان ہے کیا چیز کہ اِنسان بتاؤ
یہ تو جو سمجھتا ہے کدورت ہی رہیگی اِنسان سے اِنسان کو نفرت ہی رہیگی
یہ بھول ہے تیری کہ حقارت ہی رہیگی یہ وقت کا فرماں ہے اُخوت ہی رہیگی
دُنیا ہے محبت سے محبت ہی رہیگی
❦ ❦ ❦
ہم قول کے پابند ہیں لا ہاتھ ملالے بچھڑے ہوئے بھائی ہیں کلیجے سے لگالے
٭ ٭ ٭