خاطب
پگڈنڈی
(سلیمان خطیب کی خوبصورت نظم)
بھوت دیکھے ہنگے یوں تو چاندنی راتاں تمے
یہونچ خالی سن کو ہنگے طور کے باتاں تمے
منھ اندھارے آکو دیکھو طور بن جاتی ہوں میں
طور بن جاتی ہوں جی میں نور بن جاتی ہوں میں
❦ ❦ ❦
اِک نوی عارَس کے سرکا چرمرا کو شرم سے
گوں کے بازو سے نکل کو گھاٹ کو جاتی ہوں میں
جن کے اَنگے چان، سورج بھیک کے صحنک ہیں دو
ایسے ایسے آفتاباں کو اُٹھا لاتی ہوں میں
منھ اندھارے آکو دیکھو طور بن جاتی ہوں میں
طور بن جاتی ہوں جی میں نور بن جاتی ہوں میں
❦ ❦ ❦
یاں پہ چھپتی، واں نکلتی، کھیلتے آتی ہوں میں
دھان کے کھتیاں میں جاکو مانگ بن جاتی ہوں میں
میں ہوں پھولاں کی ڈغالی ہور بوجھل ہیں گھڑے
ایک لچکیلی کمر ہوں، بل پو بل کھاتی ہوں میں
منھ اندھارے آکو دیکھو طور بن جاتی ہوں میں
طور بن جاتی ہوں جی میں نور بن جاتی ہوں میں
❦ ❦ ❦
میں کنواری چھوریاں کی ایک لمبی سانس ہوں
دو دِلاں میں چبھنے والی ایک بنگی پھانس ہوں
ہاتھ میں جنگل کے ہوں تقدیر کی ٹیڑھی لکیر
کچا پکا وعدہ ہوں میں مٹتی مٹتی آس ہوں
منھ اندھارے آکو دیکھو طور بن جاتی ہوں میں
طور بن جاتی ہوں جی میں نور بن جاتی ہوں میں
❦ ❦ ❦
یہ اُتاراں یہ چڑھاواں بانسری کا راگ ہوں
منچلے گبرو جواناں کے دِلاں کی آگ ہوں
گوری گوری گوپیاں ہیں رنگارنگی ساڑیاں
وہ دھنک بھی کیا دھنک جی میں دھنک کا بھاگ ہوں
منھ اندھارے آکو دیکھو طور بن جاتی ہوں میں
طور بن جاتی ہوں جی میں نور بن جاتی ہوں میں
❦ ❦ ❦
ایک چندری ہوں کسی کی، کھیت میں کھوئی ہوئی
ایک ناگن ہوں اکیلی گھانس میں سوئی ہوئی
کاں کے پاواں جل کنول پڑتے ہیں چھاتی پو مری
میں تو گنگا کی لہر ہوں، نور میں ڈوبی ہوئی
منھ اندھارے آکو دیکھو طور بن جاتی ہوں میں
طور بن جاتی ہوں جی میں نور بن جاتی ہوں میں
❦ ❦ ❦
شار کے وہ پاپی پاواں مجھ پو آسکتیچ نئیں
میں تو میں میری گرد کو भी وہ پاسکتیچ نئیں
اُن کے سڑکاں لمبے دھوکے، کالے پتھر کے دلاں
میری نرمی، شرما شرمی، مرکو لاسکتیچ نئیں
منھ اندھارے آکو دیکھو طور بن جاتی ہوں میں
طور بن جاتی ہوں جی میں نور بن جاتی ہوں میں
❦ ❦ ❦
نیک ہو کو بد کی ساتھی کیسے ہوسکتی ہوں میں
پاپ کے بھرپور مٹکے کیسے ڈھوسکتی ہوں میں
٭ ٭ ٭