خاطب
پاؤ حکیم
گھر کے پیچھے جدید قبریں تھیں
یہ بھی اُن کا ہی کارنامہ تھا
جن کے جو بھی علاج ہوتے تھے
یہیں وہ خوش نصیب سوتے تھے
❦ ❦ ❦
کیا کہیں خود حکیم صاحب بھی
جملہ اَمراض کا نمونہ تھے
گرتی دیوار جھڑتا چُونا تھے
یعنی سوکھا ہوا پودینہ تھے
چال ایسی کہ ہلتا مفلر تھے
دانت ویسے بھی گِرتی کٹگر تھے
❦ ❦ ❦
کھانسی اُٹھتی تھی سیٹی بجتی تھی
دونوں آنکھوں کی لائٹ مدھم تھی
اک دُکانِ کفن فروشاں تھی
واں شفا خانہ کھول رکھا تھا
❦ ❦ ❦
اُس کے بازو یتیم خانہ تھا
یہ بھی قدرت کا کارخانہ تھا
بندہ، بندے سے یاں نہیں مِلتا
رب کو بندے سے یہ ملاتے تھے
فکر روزی جنہیں ستاتی تھی
اُن کو آرام سے سلاتے تھے
کیا غریبی ہے کیا امیری ہے
فرق دونوں کا یہ مِٹاتے تھے
❦ ❦ ❦
کس قدر باکمال اِنساں تھے
قومی یکتا سے کام لیتے تھے
ہندو مسلم ہو سکھ یا عیسائی
ایک گولی سے مار دیتے تھے
❦ ❦ ❦
(گھر پہ کوئی فقیر آپہنچا)
فقیر:
مرنے والوں کے نام پر دے دو
تاکہ حق میں دُعا کرے کوئی
❦ ❦ ❦
حکیم صاحب:
روز کتنے فقیر آتے ہیں
کس کی حاجت روا کرے کوئی
تم نکمے ہو اور نالائق
مفت خوروں کو کیا کرے کوئی
ہم بھی محتاج ہیں مریضوں کے
کیا کسی کا بھلا کرے کوئی
❦ ❦ ❦
فقیر:
گولی کھاتے ہی لوگ مرتے ہیں
بل بھی کیسے ادا کرے کوئی؟
تم بھی میرے ہی ساتھ آجاؤ
گھر میں بیکار کیا کرے کوئی
❦ ❦ ❦
حکیم صاحب:
تندرستی کی فکر کر ناداں
تندرستی ہزار نعمت ہے
❦ ❦ ❦
فقیر:
تنگ دستی اگر مسلسل ہو
تندرستی کو کیا کرے کوئی
دُکھ ہے دُنیا میں صرف روٹی کا
میرے دُکھ کی دوا کرے کوئی
روٹی کتنا ذلیل کرتی ہے
ایسے کب تک جیا کرے کوئی
٭ ٭ ٭