خاطب
پہلی تاریخ
(سلیمان خطیب کی مشہور نظم)
شوہر:
تجھے معلوم ہے، کی اِتا خوشی سے آیوں
مجھے آتے سوبی نئیں آتے سو گانے گایوں
آدھی بریانی بھی ہوٹل میں دبا کو کھایوں
دیکھ جیبق میں تِرے واسطے کیا کیا لایوں
آج تنخوا ہے مِری آج ہے چاندی سونا
بول گلے میں تیرے واسطے کیا کیا ہونا
❦ ❦ ❦
بیوی:
بس کرو بھوت ہوا شیخی بگھارو نکو
کھٹے مٹھے مجھے باتاں میں مٹھارو نکو
گھولناں سے تمے شیشے میں اُتارو نکو
باتاں باتاں میں تمے لاتاں بی مارو نکو
کی شرم نئیں سو کتئیں بات کو تنخوا آریئے
آنے کی دیر بھی نئیں سیٹھ کے گھر کو جاریئے
❦ ❦ ❦
شوہر:
سیٹھ کا پیٹ پھٹو کی یہ دلِندر آیا
کی گے پہیلچ نوالے میں یہ کنکر آیا
پھلاں لگتیچ مرے جھاڑ پو بندر آیا
پیسہ آتیچ اِدھر چور بھی اندر آیا
سیٹھ کا چھوڑا، اری کیا ہے اُتالا ہے وہ
ہمے تھوکے سو گھڑاں پو کا نوالا ہے وہ
آج جنت ہے مِرے ہاتھ میں جیبق ہے گرم
کھن کھنا کھن کی یہ آواز بھی اللہ کی قسم
اس کی آواز کی مٹھی میں ہے دُنیا کا بھرم
اس کی آواز پو بک جاتا ہے لاکھوں کا دھرم
اس کی آواز پو گمت کرے پیرانِ حرم
دھر کو پلٹیانچ لگانے لگے پتھر کے صنم
کھن کھنا کھن کی یہ آواز بھی اللہ کی قسم
اس کی آواز پو ہوجاتا ہے پتھر بھی نرم
اس کی آواز پو اُٹھ جاتے ہیں گھنگھرو کے قدم
اس کی آواز پو ڈھل جاتی ہے آنکھوں کی شرم
پیسہ نئیں نئیں سو جگہ جئینگا رسائی دیکھو
پاپ کاں ہے کی خُدا، اس کی خدائی دیکھو
❦ ❦ ❦
بیوی:
کی پڑئیں اِتا اُتالے تمے کئیکو تن رئیں
سونے چاندی کے دِوالاں تمے کاں کے بَن رئیں
ہتھیاں گھوڑے کیا دَروجے پو تمارے ٹھن رئیں
نئیں تو چھپر سے تمارے کتو موتیاں چھن رئیں
چار رُپڑی پو تمے کتا مرستے جارئیں
اَیو! دُنیا کا خزانائچ اُٹھا کو لارئیں
❦ ❦ ❦
شوہر:
سونے چاندی کے دِوالاں میں بنونگا کاں سے
ہیرے موتیاں کی میں بنگوئی میں جھلونگا کاں سے
تَونس لگتی ہے تو پانی نہیں ملتا منجے
ہاتھاں گھی دودھ سے تیرے میں دُھلونگا کاں سے
چار رُپڑی کو مرے اللہ کا ناؤں سمجھو
تیز دُھپکالے میں پیپل کی ہے چھاؤں سمجھو
❦ ❦ ❦
بیوی:
کب کتیوں ماٹھی پڑو منجے پیتمبر ہونا
مِنجے ہوکاچ لگئے لاکو پِنانا سونا
یہ تو عمر کا رہیا روگ، جنم کا رونا
کیا کروں آنگ چھپانے کو تو چندی ہونا
کاں بھی جاتیچ نئیں گھر میچ میں مرتیوں دیکھو
اللہ کاں ہے کی فَقَط بندیاں سے ڈرتیوں دیکھو
❦ ❦ ❦
شوہر:
گھر کو آتیچ لگی آکو مصیفت ماروں
ویئچ رونے کی پلانے کی ہے عادت ماروں
تجے کتا بی کرو سب ہے اکارت ماروں
اچھی لپٹی یہ مجے کاں کی نحوست ماروں
ایک بجلی ہے کہ ہر وقت کڑکتی رہتیئے
تو تو نو من کی ہے مشال بھڑکتی رہتیئے
❦ ❦ ❦
بیوی:
تمے سونچو تو ذرا کیا میں کما کو لَونگی
کیا بھکاریاں کے سریکا میں گھرے گھر جونگی
گھر میں دانہ تو رہیا، لکڑی کا چورا نئیں ہے
پاواں چلے میں لگاکو کیا پکا کو بھونگی
کیا تمہارا ہے، تمے کاں تو بی جاکو کھاتئیں
رات کے بارہ بجے سیٹیاں بجاتے آتئیں
❦ ❦ ❦
شوہر:
تجے اللہ کی قسم بول اکیلا کھاتوں؟
جتا ملتا ہے سَبیچ لاکو میں تمنا بھاتوں
کیا میں لوگاں کے سریکا جرا یاں واں جاتوں؟
چاند تاروں کے اُجالے میں کیا دُودھوں نھاتوں؟
ایک دیمک ہے مری جان کو کھاتے جاریئے
دھر کو گھر بار کا کمپاچ بٹھاتے جاریئے
❦ ❦ ❦
بیوی:
تنخوا دینے کو مجے لاکو تو پوری دیتیں
پیسہ پیسہ مجے پھسلا کو جھٹک کو لیتیں
اَاونٹنا، کڑھنا، فقط جی کو جلالینا ہے
کتے، بلیاں کا یہ جینا ہمے کئیکو جیتیں
اَیو ماں آکو پڑی کیسے کے پالے دیکھو
میرے ماں باپ مجے بوڑی میں ڈالے دیکھو
❦ ❦ ❦
شوہر:
میرا احسان سمجھ لے تجھے لایا کر کو
نئیں تو جاتی تھی پھکٹ میں یہ جوانی سر کو
تو تو بیٹھی تھی فقط تاکتے میرے گھر کو
اماں باوا تیرے کیا لاکو دیئے تھے مرکو
تیرے لوگاں کی فقط خالی حماقت دیکھو
اَینٹ کو پینچ کا کپڑا ہے نزاکت دیکھو
❦ ❦ ❦
بیوی:
میرے لوگاں کے تمے نام نکالو نکو
عوداں لوبان تمے فاتیاں میں ڈالو نکو
دل میں نئیں ہے تو تمارے ہمے پالو نکو
تمنا اللہ کی قسم ہمنا سنبھالو نکو
ایک ٹکڑے کا مرا کیا ہے، میں کاں بھی جو نگی
ہاتاں پاواں ہیں سلامت تو کما کو کھونگی
❦ ❦ ❦
شوہر:
ایسے لاکھوں کو ہزاروں کو میں دیکھیوں جاگے
اِتا اِیرا ہے تو میکے سے اُٹھا کو لا گے
تو بھی اچھی ہے ترے بھاگ بھی اچھے ہیں گے
ہاتاں پاواں کو غلاماں مرے بچے ہیں گے
❦ ❦ ❦
بیوی:
لاڑ کے تانے تمارے کیا بٹھا کو رکھتیں
ایک لوٹا تو بی پانی کا وہ لا کو رکھتیں
دیدے لے لے کو مُجے اُلٹا ڈرا کو رکھتیں
باوا بیٹے مُجے سب مل کو کھپا کو رکھتیں
چھوریاں کو بی بگاڑے تمے لاڑاں کرکو
کرنے والے منجے کوسیں گے جی عمر بھر کو
صبح ہوتیچ گرم ان کو تو کھانے ہونا
پٹیاں پلٹالے کو اسکول کو جانے ہونا
کپڑے فیشن کے زمانے کو دِکھانے ہونا
ان کو رکشا تو بی، موٹر تو بی آنے ہونا
گاڑ کو گٹھڑی میں چُلّے میں دبا کو رکھیوں
ان کے دادا کا خزانہ ہے چھپا کو رکھیوں
اُڑو مٹھّی پڑو وَستاداں بی کیسے آرئیں
نّوے نویئچ نوے فیساں لگاتے جارئیں
پیسے کاپیاں کے کِتاباں کے بڑھاتے جارئیں
اِنو اوندھیچ پڑے پڑکو، پڑھاتے جارئیں
علم پیسہ ہے تو پیسے کا اُجالا نکو
دُکھاں پہلیچ ہیں یہ دُکھ پو دُنبالہ نکو
❦ ❦ ❦
شوہر:
یوں تو لانے کو میں کھنڈیاں سے کما کو لاتوں
تھاناں کے تھاناں میں کپڑے بھی اُٹھا کو لاتوں
کیا میں دُنیا کو بتانے کو بتاکو لاتوں
تجے آرام سے گھر میں میں بٹھا کو لاتوں
گھر میں شیطان گھسئیے کون یہ کھا کو جارئیں
بالو بھا کو مری انکھیاں میں دبا کو جارئیں
❦ ❦ ❦
بیوی:
تمے سمجھو نکو سگے مرے آتے ہنگے
آکو پچھواڑے کے دروازے سے کھاتے ہنگے
گھر کے چوراں ہیں سبیچ کون پکڑنے والا
گوداں بھر بھر کو مرے گھر سے لیجاتے ہنگے
یہ بھری شام ہے اللہ کی قسم کھاتی ہوں
کچے بالاں سے میں قرآن اُٹھا لاتی ہوں
ایک دانہ بی گیا ہنگا تو کیڑے پڑ جاؤ
اپنے ہاتاں سے میں دی ہنگی تو ہاتاں جھڑجاؤ
نئیں سو بھوتان اٹھو، دُنیا کے باتاں بڑجاؤ
آخری وقت زباں پو مری کلمہ اَڑجاؤ
آڑے آنا تھا مری نیکی بچالینا تھا
اللہ صاحب مُجے دُنیا سے اُٹھا لینا تھا
سچے باتاں تو سدا کڑوے کسالے ہوتئیں
چپکے بیٹھو جی مرے نام پو کئیکو روتئیں
امّاں، بھاناں تو تمارے ہمے کتا دھوتئیں
جیتے جی روز قبر میں ہمے جاکو سوتئیں
ہے مرا کون سبیچ لوگاں تو مر کو بیٹھئیں
کیسی دوزخ کے حوالے مجے کر کو بیٹھئیں
❦ ❦ ❦
شوہر:
اِل لگا! چپکے ہَمے بیٹھے تو بڑتے جاریئے
ایک نھیوکالے کی ندی ہے کہ چڑتے جاریئے
دل سے باتانچ نوے نئیں سو بی گھڑتے جاریئے
بیر کی کانٹی مرے آنگ پو پڑتے جاریئے
تیری جب چلنے لگی جیب تو قینچی کیا ہے
چِیر کو تکڑے کروں گا مجے سمجی کیا ہے
❦ ❦ ❦
بیوی:
تمنا نئیں بولی تو بولوجی میں کن کو بولوں
کو تلک بیٹھ کو چانول کی کرک کو ڈھولوں
کیا کتیں میں بی گھلوں ہور کیا تمنا گھولوں
بند مٹھی کے بھرم کو بھلا کیسے کھولوں
میری ہر بات تُمارے کو فقط کھیل ہوئی
چھوکری بڑ کو ہرے منڈوے کی اب بیل ہوئی
دیکھتے دیکھتے مُلکے ہوئے جھاڑاں پورے
قداں بدنیچ لگیں لمبے ہیں تاڑاں پورے
ان کی ہیبت سے مُجے راتاں کو نینداں نئیں ہیں
اَیو ماں کیسے اٹھیں گے یہ پہاڑاں پورے
بے فکر تان کو چدّر تُمے سوتے رہتئیں
میرے شبنم کے نصیباں ہیں کہ روتے رہتئیں
اب تمے بولو جی پیغاماں کدر سے لاتئیں
تمے سمجھو نکو پہلے کے سریکا آتئیں
چیزاں انکھیاں میں مرے سَل رے تھے گروی ڈالے
گردناں کن کے مدڑ کو تمے چیزاں بھاتئیں
چھوریاں زر کے فقط زور پو بڑتئیں دیکھو
جنتاں گود میں دوزخ کے بی پڑتئیں دیکھو
❦ ❦ ❦
شوہر:
اَری نادان میں جو کچھ بی کما کو لاتوں
کتا مرکھپ کو میں جیو جان کھپا کو لاتوں
ایک عزت کی یہ روٹی کے لئے کیا بولوں
کتے جوتے میں کمینیاں کے اُٹھا کو لاتوں
اپنی اَنگار میں خود آپ میں جَل کو مَرتوں
ایک دِیپک ہوں اَندھارے میں اُجالا کرتوں
ہڈیاں کن کے تٹے سونچ یہ دولت کن کی
دوزخی ہاتھ بناتے ہیں یہ جنت کن کی
سب کو کرسیاں پو بٹھادے کو زمیں پو سوتئیں
ہم کمینیچ بڑھا دیتے ہیں عزت کن کی
ہَمنا کاماں سے محبت ہے کوئی کام نہیں
تاج مر مر کے بناتے ہیں مگر نام نہیں
ہمننا سب باغ بغیچے بی لگانے آتائے
پھولاں کھلتے ہیں تو پاواں میں بچھانے آتائے
بھکے سوجا کو زمانے کو کھلانے آتائے
وقت پڑجائے تو گلے بی کٹانے آتائے
ہو کو ماٹھی کبھی ماٹھی تلے مل جاتے ہیں
ویئچ پھولاں کسی چوٹی میں لگادیتے ہیں
پھول بن کو کبھی ماٹھی سے نکل آتے ہیں
وئیچ پھولاں کسی تربت پہ چڑھادیتے ہیں
❦ ❦ ❦
بیوی:
ہم غریباں ہیں غریباں کو غذا کچھ بی نکو
دَرَد اُٹھتا ہے تو اُٹھنے دو، دوا کچھ بی نکو
ہم کو دیول کی بی دَرغاں کی دُعا کچھ بی نکو
نکو بھگوان تیری ہم پو دَیا کچھ بی نکو
بے سہارا ہیں غریباں تو سہارا نکو
ڈُبنے والیچ ہے کشتی تو کنارا نکو
❦ ❦ ❦
شوہر:
اِتی بس آس پو جیتے ہیں اُجالا ہنگا
کالے راتاں کا کبھی موں بی تو کالا ہنگا
لنگے کندھے پو ہمارے بی دُشالا ہنگا
پیاسے ہاتاں میں بھرا سونے کا پیالا ہنگا
دھرتی ناچینگی مرے کام پو صدقے جاکو
چاند سورج مرے قدماں پو گریں گے آکو
دیکھو اَمرئی کے ہرے منڈوے میں کوئل بولے
دھن مڑی اوڑ کو ہریالا دُوپٹہ ڈولے
بولو دُنیا کو ہنسے، جھوم کے بادل جھولے
جھک کو آکاش مری دھرتی کے پاواں چھولے
جب بھی موڑ کا کوئی دھرتی سے نکل آئیں گا
ہم غریباں کے پسینے کی قسم کھائیں گا
٭ ٭ ٭