Personal Reminiscences

Memories and reflections on Suleman Khateeb

سلیمان خطیب

شاذ تمکنت

کبھی کبھی تو ظرافت بھی خوں رُلاتی ہے

ہنسی کی طرح فضاء میں بکھر گیا ہے کوئی

ہنساتے ہنساتے سلیمان خطیبؔ ہنسی کی طرح فضاء میں بکھر گئے، گم ہو گئے اور یہ یقین دلا گئے کہ کبھی کبھی ظرافت بھی خون رُلاتی ہے، ہنستے میں بھی آنسو آ ہی جاتے ہیں، آج اُن کی یاد یوں آتی ہے ع
جیسے کیوڑے کا کانٹا کلیجے کے پاس

برسوں پرانی بات ہے۔ میری شاعری کا ابتدائی زمانہ تھا۔ کسی مشاعرہ کے سلسلہ میں گلبرگہ جانے کا اتفاق ہوا اور وہاں پہلی بار سلیمان خطیب کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ مشاعرہ کے بعد انہوں نے خاص طور پر دو چار دن رُک جانے پر اصرار کیا کہ اُن کا گھر اتنا پر فضا ہے کہ میں وہاں شعر کی آہٹیں صاف سن سکوں گا۔ ان دنوں میری زندگی میں آج کی طرح گہما گہمی تھی نہ مصروفیت ، میں خطیب ؔکے گھر ٹھہر گیا۔ ان کے گھر کا نام ‘‘پانی محل’’ تھا، نام کی یہ رعایت محکمہ ٔ آبرسانی سے تھی جہاں خطیب ؔملازم تھے۔ مکان نہایت اونچی اور پر فضاء جگہ پر تھا۔ اس مکان کے برآمدے اور صحن سے بستی یوں نظر آتی جیسے ہوائی جہاز کے اُترتے وقت کھڑکیوں سے سڑکیں ، درخت، گھر وغیرہ ماڈل کی طرح نظر آتے ہیں۔ ‘‘ پانی محل’’ کے صحن میں جابجا بیچ کھاتی ہوئی جھاڑیاں، باڑ اور مصنوعی نہروں کے پانی کی سلیٹی دھاریں عجیب منظر پیش کرتی تھیں۔ مکان کا اندرونی حصہ بھی صاحب ِ خانہ کی نفاست اور ذوقِ جمال کا شاہد تھا۔ مجھے جس کمرہ میں ٹھہرایا گیا تھا وہاں دیواروں کے رنگ، فرنیچر ، قالین، پردے اور تصویروں سے اندازہ ہوتا تھا کہ واقعی یہ ایک شاعر کا مکا ن ہے جو غضب کا حسن پرست بھی ہے۔ خطیبؔ کی خاطر تواضع اور اُن کی بیگم کا اہتمام مجھے آج تک یاد ہے۔ جہاں دو چار دن رہ کر میں نے واقعی محسوس کیا کہ خطیبؔ کے دل میں اُن کی شاعری کی طرح بڑائی سمائی ہے۔

خطیبؔ رہتے تو گلبرگہ میں تھے لیکن حیدرآباد ان کا گھر آنگن تھا ان کا سسرالی مکان میرے گھر سے بہت قریب تھا اور اُن کے راستے میں میرا گھر پڑتا تھا۔ حیدر آباد کے دورانِ قیام میں آتے جاتے میرے ہاں آجاتے اور دیر تک اِدھراُدھر کی سناتے اور سنتے۔ شعر کی سوجھ بوجھ اور پر کھ اُن میں بہتوں سے زیادہ تھی۔ خاص طور پر انہیں وہ شاعری زیادہ پسند آتی تھی جس میں مناظر فطرت کا بیان ، نئی امیجری اور نئے ڈکشن کے ساتھ ہو۔ خطیبؔ کے شعر سن کر تو انشراح واہتز از محسوس ہوتا تھا لیکن انہیں شعر سنا کر بھی دل کو تسکین ہوتی تھی کہ وہ باریک نکات پر بھی نظر رکھتے تھے۔

چار برس اُدھر کی بات ہے کہ وحید اختر اور میں سری نگر ( کشمیر ) کے ایک سوتے جاگتے راستے سے گزر رہے تھے، دور سے ہم نے دیکھا کہ سفیدے کے دور و یہ درختوں کے درمیان، برف سے ڈھکی ہوئی چوٹیوں پر نظریں جمائے خطیبؔ چلے آرہے ہیں۔ وہی لباس، سر پر ٹوپی جو کلاہ غالب سے چھوٹی اور جناح کیپ سے نکلتی ہوئی۔ گرم شیروانی ، چوڑی دار پاجامہ، آنکھوں پر سیاہ چشمہ ہم دونوں کو دیکھ کر کھل اُٹھے۔ ہمیں چھیڑنے کے لئے کہا ‘‘بھئی ایک نیام میں دو تلوار میں کیسی ؟’’

رات مشاعرہ تھا، خطیبؔ پہلی بار اپنی دکنی شاعری کے ساتھ کشمیر آئے تھے۔ کشمیری عوام کے لیئے ان کی زبان نئی ضرور تھی لیکن خطیبؔ کے تحت اللفظ نے جیسے سننے والوں کا دل موہ لیا۔ یہاں پر بھی خطیبؔ نے حسب روایت فرمائشوں پر تابڑ توڑ دو تین نظمیں سنادیں۔ مشاعرہ کے بعد اپنی کامیابی پر کچھ زیادہ ہی مسرور تھے۔ یوں بھی انہیں یہ اعتماد تھا کہ جہاں جائیں گے کامیاب لوٹیں گے اور اس اعتماد میں ذرّہ برابر بھی خوش فہمی نہ ہوتی تھی۔ مجھے اُن کے ساتھ بمبئی، مدراس، بنگلور، پونہ اور حیدرآباد کے مشاعرے پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ ہر جگہ میں نے انہیں کامیاب اور مقبول شاعر پایا۔ خاص طور پر حیدر آباد میں خطیبؔ رائج الوقت سکہ کی طرح پوجے جاتے تھے۔ چنانچہ جن مشاعروں کی نظامت میرے سپرد ہوتی تھی، میں انہیں سب سے آخر میں زحمت کلام دیتا تھا کہ اُن کے بعد مشاعرہ کا رنگ ہی اور ہوتا تھا اور اچھے اچھے شاعر بھی خطیبؔ کے بعد پڑھنے کو دار پر چڑھنے کے مترادف سمجھتے تھے۔ ادھر خطیبؔ مائیک پر آئے اور اُدھر سے سامعین نے فرمائشوں کی بوچھار کر دی۔‘‘ ساس بہو’’ سنائیے۔ ‘‘پہلی تاریخ’’ سنائیے۔‘‘یاد’’ سنائیے وغیرہ وغیرہ۔

جس طرح دیر تک کھل کر ہنسنے میں آنکھ سے پانی بہہ نکلتا ہے بعینہ یہی خطیبؔ کی شاعری کا حال تھا۔ یہ شاعر ہنسا ہنسا کر بے حال کر دیتا تھا لیکن جب وہ مائیک سے ہٹتا تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کسی نے چپکے سے کلیجہ میں چٹکی سی لی ہو۔ خطیبؔ کی تقریباً تمام نظموں کا نقطہ عروج المیہ ہے اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کا ایسا آئینہ جس میں آپ کے ہمارے خدو خال صاف نظر آتے ہیں۔ مثلاً ایک بیوی اپنے شوہر کی موت پر رو رہی ہے جو مہینہ کی آخری تاریخوں میں مرتا ہے، بیوی کا یہ کہنا کہ‘‘ تنخواہ لینے کے بعد مرنا تھا’’ ایک ایسا المناک مزاح ہے جس کی داد دیتے ہوئے سانس رُک رُک جاتی ہے۔ یا ایک شاعر ا پنے مداح کی زبان سے اپنی تعریفیں سُن سُن کر آخر میں یہ کہہ اٹھتا ہے
‘‘ بھوکا ہوں کل سے پیارے اک ائے تو پلادے’’

یہی ‘‘مزاح غم’’ اور‘‘ غمِ مزاح’’ خطیب ؔکا ہنر تھا۔ غرض کہ خطیبؔ صرف ہنسی ٹھٹھول کے شاعر نہ تھے، انہوں نے زندگی کی کُھر دری سچائیوں کو اپنا موضوع بنایا اور وہ اُن میں مزاح کے پہلو ڈھونڈ کر اتنا ہنساتے تھے کہ آنکھ سے آنسو نکل پڑتے تھے اور آج بھی یوں محسوس ہو رہا ہے کہ وہ اب تک زندگی پر پرُ کیف و پرُ مزاح نظم سنا رہے تھے اور ہم سب ہنس رہے تھے۔ انہوں نے نظم ختم کی اور دُْنیا کے مائیک سے ہٹتے ہی یوں لگ رہا ہے جیسے کوئی چپکے سے کلیجہ میں چٹکی سی لے رہا ہے۔

(روز نامہ سیاست ۲۶؍ اکٹوبر ۱۹۷۸ء)

٭٭٭