The timeless works of Sulaiman Khateeb in Deccani Urdu
اٹھو مری دنیا کے شریفو ادھر آؤمردود زمانہ سے مجھے آکے بچاؤ
پٹی میں جس کی لرزہ ، پایے میں جس کے رعشہہر چیز کانپتی ہے ، کس کا پلنگ پاشا
آنچ گھر میں لگا کو بیٹھی ماںگھر کا کچرا ڈبا کو بیٹھی ماں
بولو خالہ مزاج کیسے ہیں؟کتنے برسوں کے بعد آئی ہو!
روز لڑ لڑ کو جان کھا کھا کواچھا جنگل میں سوگئے آکو
توچ بیگلا بنا کو چھوڑی ہےغیر لوگاں کا کیا گلہ امّاں
بھوت دیکھے ہنگے یوں تو چاندنی راتاں تمےیہونچ خالی سن کو ہنگے طور کے باتاں تمے
گھر کے پیچھے جدید قبریں تھیں یہ بھی اُن کا ہی کارنامہ تھا
تجھے معلوم ہے، کی اِتا خوشی سے آیوں مجھے آتے سوبی نئیں آتے سو گانے گایوں
کاں کے سچے یتیم تھے پٹےاُن میں بھابی کے بارہ بچّے تھے
نیندیں حرام ہوتی تھیں ظالم کے شور سےجب بھی یہ بولتا تھا گڑمبے کے زور سے
نہ جانے کون منزل تھی جہاں کل رات کو ہم تھےبہر سو رقص بسمل تھا
سن ری گوری! میری باتلکھن تیرا چنی رات
یاد بولے تو تکیئے میں گجرے کی باسجیسے کیوڑے کا کانٹا کلیجے کے پاس
Your contribution helps us preserve Deccani Urdu literature and support educational initiatives.