خاطب

یتیم خانے کے تمام بچے منتظم صاحب کی سختیوں سے تنگ آکر علی الصبح فرار ہوگئے، منتظم صاحب بچوں کو ڈھونڈھتے ڈھونڈھتے ایک چورا ہے پر پہونچے اور بڑبڑانے لگے۔

منتظم صاحب:

کاں کے سچے یتیم تھے پٹے اُن میں بھابی کے بارہ بچّے تھے
یار لوگاں بی لاکو چھوڑے تھے بھانامتی کا کنبہ جوڑے تھے
تھوڑے سرکاری پیسے ملتے تھے بال بچوں کے پیٹاں پلتے تھے
گھر میں گھی کے چراغ جلتے تھے جمع کرتا تھا آپ کا بندہ
اِن یتیموں کے نام سے چندہ
❦ ❦ ❦
اُن کا کپڑا ہمارا کپڑا تھا اُن کا کھانا ہمارا کھانا تھا
اُٹھ کو فجر سے چل دئے سالے آج مِنجے یتیم کر ڈالے
بڑا پٹا تو بھوت چالو ہے ڈونگے ڈھکلو ہے گھر کھنگالو ہے
گلا کاٹیا تو روتے کاٹیں گا روتی صورت ہے آنسو ڈھالو ہے
لے کو پٹوں کو چل دیا پٹا کنولے مڑکے کھندل دیا پٹا
❦ ❦ ❦
پٹا ترپٹ ہے، ہاف سگنل ہے منھ پو چیچک، سڑا ستافل ہے
نوے لوگاں کو جاکو گھیریں گا اچھے دِل میں دَھتورا پیریں گا
کھئے سو باسن میں چھیداں ڈالیں گا کھئے سو گھر میچ جھاڑو پھیریں گا
❦ ❦ ❦
پٹا مَکری ہے بھوت جھوٹا ہے اُنے لیڈر تو بن گیا ہنگا
لاکھ سانچوں کی اُجلی ٹوپی ہے کسی کرسی پو تن گیا ہنگا
❦ ❦ ❦
ننھا چھورا تو بھوت کنولا ہے منھ پو نمک ہے رنگ سنولا ہے
یاد آیا تو رونا آتا ہے کتا ظالم ہے دِل دُکھاتا ہے
کچا پندا ہے ڈھکلیاں کھاتا ہے روز رستے بدلتے جاتا ہے
اس کی انکھیاں سے پانی بہتا ہے کچا مٹکا پجرتے رہتا ہے
اس کی عادت ہے جھاڑ کی عادت چھاوں دیتا ہے دھوپ سہتا ہے
کن کے رستے پو چل دیئے پٹے؟
❦ ❦ ❦

شرابی:

بنگی دُنیا کی چال ہے باشا رستہ چلنا کمال ہے باشا
رستے خونی ہیں گھاگ ہیں باشا رستے دوزخ کی آگ ہیں باشا
باوا آدم کو دیدئے چکر رستے پاواں میں ناگ ہیں باشا
رستے سمجھے تو ساتھ دیتے ہیں رستے پلٹے تو ہات دیتے ہیں
یہ ہے گیتا کے پاٹ کا رستہ وہ ہے بائیبل کے تھاٹ کا رستہ
یہ اشوکا کی لاٹ کا رستہ یہ ہے چوروں کے ہاٹ کا رستہ
یہ ہے سیتا کا رام کا رستہ وہ ہے راون کے نام کا رستہ
❦ ❦ ❦
رستے خوں میں نہا کے آتے ہیں رستے مقتل سے ہو کے جاتے ہیں
یہ ہے پیاسے امام کا رستہ وہ ہے کوفے کا شام کا رستہ
یہ ہے دُرِّ یتیمؐ کا رستہ وہ ہے موسیٰ کلیم ؑ کا رستہ
رَستے نِکلے تو طُور تک پہنچے عرشِ اعلیٰ کے نور تک پہنچے
رَستے نورِ حدیث ہوتے ہیں رَستے اُمُّ الخبیث ہوتے ہیں
ایک دُنیا کے لاکھ رستے ہیں کون رَستہ تمہارا اپنا ہے
٭ ٭ ٭