خاطب

پہلا فرشتہ:

نیندیں حرام ہوتی تھیں ظالم کے شور سے جب بھی یہ بولتا تھا گڑمبے کے زور سے
یوں بھی تو جانشین تھے ابا حضور کے آوارہ کوچے آپ کے مقسوم ہوگئے
اِک محفل شراب میں زانوئے حور پر طبلے کی دُھوم دھام میں مرحوم ہوگئے
مالک تری قسم ہے یہ اِتنا پلید ہے مرشد بنا تو سارے مریدوں کو کھا گیا
سادھو کا روپ دھار کے دھونی رمائی ہے دُنیا کو راکھ مل کے لنگوٹی لگائی ہے
❦ ❦ ❦

دوسرا فرشتہ:

دھوکا دیا کسی کو قیادت کے نام سے اِیمان بیچ ڈالا تجارت کے نام سے
ہر انجمن کو جاتے ہی چکلے لگا دیا لوٹا ہے دوستوں کو محبت کے نام سے
کتنے شریف لوگوں کو بے گھر بنا دیا گھر بھر لیا ہے اپنا وِکالت کے نام سے
کتبات بن گئے ہیں وہ لوحِ مزار کے نسخے لکھے تھے جتنے طبابت کے نام سے
❦ ❦ ❦

تیسرا فرشتہ:

اشعار کے گلانے میں اُستاد ہیں حضور دیواں بدل دئے ہیں عقیدت کے نام سے
بے وزن شعر، صرف ترنم سے پڑھ لئے بے معنی نظمیں لکھی ہیں جدت کے نام سے
ہر شکل بد کو کہتا ہے تجریدی آرٹ ہے بیلن بنا کے رکھ دیا عورت کے نام سے
❦ ❦ ❦

خدا:

”تن من سے بوٹی بوٹی سے اعضاء تمام سے نکلے گا جو بھی کھایا ہے مالِ حرام سے“
نکلیں ہزاروں مرغیاں ہر ہر مقام سے رِشوت میں جو کٹی تھیں ضیافت کے نام سے
گردَن جھکا کے بولیں کہ ہم کس شمار میں بکرے کھڑے ہیں پیٹ کے اندر قطار میں
چیخا وہیں کہیں سے کوئی شتر بے مہار ہاتھی نگل بھی جائے تو لیتا نہیں ڈکار
پوچھا گیا کہ ”تو نے یہ کس کے لئے کیا؟ انسانیت کے نام پہ دَھبہ لگا دیا“
❦ ❦ ❦

شرابی:

سجدہ میں گر کے بولا کہ روٹی کے واسطے مالک تری قسم ہے لنگوٹی کے واسطے
دُنیا میں قتل عام ہے روٹی کے واسطے شمشیر بے نیام ہے روٹی کے واسطے
یہ اَمن کے اَمین بھی گندم فروش ہیں دُنیا اَسیر دام ہے روٹی کے واسطے
گھنگھرو طواف کرتے ہیں روٹی کے گرد ہی کوٹھے کا اہتمام ہے روٹی کے واسطے
کوئی تو معتکف ہے بڑا نیک پارسا کوئی تو غرقِ جام ہے روٹی کے واسطے
زاہد کی ہر دُعا میں ہے روٹی کا تذکرہ بدنام یہ غلام ہے روٹی کے واسطے
دربارِ پُر غرور میں ظالم کی مدحتیں شعر و سخن، کلام ہے روٹی کے واسطے
کوئی غریب دوڑ کے قدموں پہ گر پڑا بندہ کا کیا مقام ہے روٹی کے واسطے
تو نے ذَلیل لوگوں کے دَر پر جھکا دیا اِلزام میرے نام ہے روٹی کے واسطے
تو پاک اور رَحیم ہے اور میں کمینہ ہوں تیرا بھی اِحترام ہے روٹی کے واسطے
بانگی کی یہ اَذانیں بھی محتاجِ نان ہیں مندر میں رام رام ہے روٹی کے واسطے
❦ ❦ ❦

بجلی کی اِک کڑک سی ہوئی نور سَا ہوا

عرشِ بَریں سے جیسے کہ آنے لگی صدا

”اِنسان بے لگام ہے روٹی کے واسطے مُنہ پھٹ ہے، بَد کلام ہے روٹی کے واسطے
قربان کردیا ہے دِل و جاں کو پیٹ پر یہ نفس کا غلام ہے روٹی کے واسطے
پتھر بندھے تھے پیٹ پہ میرے رسولؐ کے کس بات کی کمی تھی نبوت کے واسطے
بھوکا پڑا ہے کوئی تو مچھلی کے پیٹ میں رَحمت تڑپ کے جاتی ہے خِدمت کے واسطے
بارہ برس کا رام نے بن باس لے لیا اپنے پدر کی صرف اِطاعت کے واسطے
تو نے سنا تو ہوگا ہی اِبنِ علیؓ کا نام پیاسا کٹا جو نانا کی اُمّت کے واسطے
اِنسان کھائے صرف عبادت کے واسطے بے بس غریب لوگوں کی خدمت کے واسطے“
٭ ٭ ٭