خاطب
ساس بہو
(جاہل ساس اور تعلیم یافتہ بہو)
ساس:
آنچ گھر میں لگا کو بیٹھی ماں
گھر کا کمپا ڈبا کو بیٹھی ماں
وہ تو پٹا سدا کا دِیوانہ
پورا بندر بنا کو بیٹھی ماں
کیا پھراتی ہے کیسا گھالی ہے
ایک لٹو کی پوری جالی ہے
اُجلا دیکھا، اُچھل گیا پٹا
پیلا دیکھا، پھسل گیا پٹا
میرے ہاتاں سے کیا کروں امّاں
صاف پورا نکل گیا پٹا
کیسے جالے میں اس کو پکڑی ہے
اَدمیاں کھانے کی ایک مکڑی ہے
❦ ❦ ❦
بہو:
(دیوانِ غالبؔ کا ایک صفحہ اُلٹتے ہوئے)
نہ سنو گر برا کہے کوئی
نہ کہو گر برا کہے کوئی
روک لو گر غلط چلے کوئی
بخش دو گر خطا کرے کوئی
جب توقع ہی اُٹھ گئی غالبؔ
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
(غالبؔ)
❦ ❦ ❦
ساس:
(خشم گیں نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اور ہاتھ ہِلا ہِلا کر)
کون غالبؔ؟ یہ تیرا سگا ہے
کی کلیجے کو تھام لیتی ہے
کتا دیدہ دلیری بولوں ماں
غیر مرداں کا نام لیتی ہے
اِنے چلتی سو چال دیکھو جی
ہونٹاں کتے ہیں لال دیکھو جی
منھ پو چھوڑی سو بال دیکھو جی
کیا بچھاتی ہے جال دیکھو جی
( بہو ہنستی ہے )
کی گے ہنستی سو دانتاں توڑُوں گی
دات کلی بٹھا کو چھوڑوں گی
❦ ❦ ❦
بہو:
آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
❦ ❦ ❦
ساس:
کہنے والے کا منھ تو دِستا ہے
تیری چمٹی نظر نہیں آتی
❦ ❦ ❦
بہو:
نیک توفیق بس خدا بخشے
اور کچھ کہئیے کیا سِوا صاحب
’کیا کہیں کچھ کہا نہیں جاتا
ہر سِتم اب سہا نہیں جاتا‘
(میرؔ)
❦ ❦ ❦
ساس:
کیا سِتم سر پہ تیرے توڑے گے
کون سوے سے دیدے پھوڑے گے
ہَمے دُنیا کے سارے دشمن ہیں
کیئکو دشمن سے ناطہ جوڑے گے
کون باجا بجاکو لایا تھا
تیرا باوا اُٹھا کو لایا تھا
مِجے گھر میں بٹھا کو لایا رے
اندھا باشا بنا کو لایا رے
گوری چمڑی پو چار حرفاں پو
کاں کی چمرخ اُٹھا کو لایا رے
سیدھی سادھی ہے کی بھٹکتی ہے
سادی مانجے میں جاکو کٹتی ہے
❦ ❦ ❦
بہو:
کھٹی باتوں سے دل یہ کٹتا ہے
دہی گرنے سے دُودھ پھٹتا ہے
تم نے دیکھا ہے چاند امّاں جان؟
چاند بڑھتا ہے چاند گھٹتا ہے
’کیا بھروسہ ہے زندگانی کا
آدمی بلبلا ہے پانی کا‘
(میرؔ)
❦ ❦ ❦
ساس:
تیری عادت ہے بات مارِنگی
باتاں باتاں میں بات مارِنگی
امّاں جیسی ہے ویسی بیٹی ہے
پاواں پکڑے تو لات مارِنگی
ہمیں چپ کیچ پاواں دھوتے ہیں
بچے سانپوں کے سانپ ہوتے ہیں
❦ ❦ ❦
بہو:
جو کہو تم سو ہے بجا صاحب
ہم برے ہی سہی بھلا صاحب
❦ ❦ ❦
ساس:
کیا رذیلاں کا جینا جیتا ہے
اُس کے جوتیاں میں پانی پیتا ہے
❦ ❦ ❦
بہو:
کیا زمانہ ہے کھائے جاتا ہے
تیر پیہم لگائے جاتا ہے
گو کہ حالیؔ میں دَم نہیں باقی
ڈور اپنی ہلائے جاتا ہے
(حالیؔ)
جتنے پھندے بنا کے لائیں گے
دھاگے کچے ہیں ٹوٹ جائیں گے
❦ ❦ ❦
ساس:
منھ پہ ماروں گی کون موالی ہے؟
کون کلدار کون حالی ہے؟
کون لگڑنگا جاکو تیرے سے
کاچکورے کی تو ڈغالی ہے
سارے گھر میں دُھواں ساپکڑی ہے
چٹ پٹے کی اُجاڑ لکڑی ہے
❦ ❦ ❦
بہو:
(کوے کی آواز غور سے سن کر)
کوا لہرا کے چھت پہ گاتا ہے
توا رہ رہ کے مسکراتا ہے
مُرغی آنگن میں پَر سکھاتی ہے
کون مہمان گھر پہ آتا ہے
دل میں لڈو سے پھوٹ جاتے ہیں
میرے میکے سے لوگ آتے ہیں
❦ ❦ ❦
ساس:
تیرے لوگاں جو گھر کو آتے ہیں
کس کے باوا کا کھانا کھاتے ہیں؟
جھاڑوں کاں کے اُجاڑ کنگالاں
میرے بچے کو سب ڈُباتے ہیں
نرم لوگاں کو سب لگڑتے ہیں
مٹھے بیراں میں کیڑے پڑتے ہیں
❦ ❦ ❦
بہو:
کون دَر پر کسی کے جاتا ہے
وقت مجبور کرکے لاتا ہے
بندہ پروَر یہ بات ہے اِتنی
بندہ بندے کے کام آتا ہے
کب کسی کی ہمیشہ چلتی ہے
شام ہوتے ہی دُھوپ ڈھلتی ہے
❦ ❦ ❦
ساس:
اُنگلیاں چٹخا کو بات کرتئیے تو!
منڈیاں جھٹکا کو بات کرتئیے تو!
تیرے دیدے دیوالاں ہوکو جاؤ
دیدے مٹکاکو بات کرتئیے تو
گھورتی کیا ہے دیدے پھوڑونگی
دات کلی بٹھا کو چھوڑونگی
(ساس پان لانے کے لئے کمرہ میں جاتی ہے اور بہو غم غلط کرنے کے لئے گنگناتی ہے)
❦ ❦ ❦
بہو:
غم اُٹھانے کے واسطے دَم ہے
زندگی ہے اگر تو کیا غم ہے
(ساس گانے کی آواز سن کر برہم ہوجاتی ہے اور غصہ کی حالت میں باہر نکل کر کہتی ہے)
❦ ❦ ❦
ساس:
ناچ، گانا، بجانا فیشن ہے
جڑ سے چوٹیاں کٹانا فیشن ہے
ساتھ مَردوں کے جانا فیشن ہے
جاکو ہوٹل میں کھانا فیشن ہے
کون روکیں گا کئیکو جاتی ہے
چار پیسے کما کو لاتی ہے
میرے بھائی کی اِک نشانی تھی
کرنا بولی تھی کیسی رانی تھی
رنگ پیلا تھا پکے لیمو کا
پھوٹ ککڑی تھی کیا جوانی تھی
بیٹی خوشبو تھی ہلکی صندل کی
ایک پتی تھی کونلی پیپل کی
اِسے جورُو کما کو لانا تھا
اَ ئتا گھر میں بٹھا کو لانا تھا
اِنے اوندھا پڑیا تھا پَڑ پَڑ کو
اِسے ڈِگریاں اُٹھا کو لانا تھا
چار پیسے کما کو وارِنگی
منھ پو جوتے ہزار مارِنگی
❦ ❦ ❦
بہو:
باتیں کرتی ہو کس طرح امی؟
بات ہیرا ہے بات موتی ہے
بات لاکھوں کی لاج کھوتی ہے
بات ہر بات کو نہیں کہتے
بات مشکل سے بات ہوتی ہے
بات سینے کا داغ ہوتی ہے
بات پھولوں کا باغ ہوتی ہے
بات خیر و ثواب ہوتی ہے
بات قہر و عذاب ہوتی ہے
بات برگِ گلاب ہوتی ہے
بات تیغ عتاب ہوتی ہے
بات کہتے ہیں ربّ اَرنی کو
بات اُم الکتاب ہوتی ہے
بات بولے کلیم ہوجائے
سننے والا ندیم ہوجائے
بات خنجر کی کاٹ ہوتی ہے
❦ ❦ ❦
ساس:
مِنجے خنجر کی کاٹ بولی نا
مِنجے کڑ کھئی سو ناٹ بولی نا
دِق کے مُردوں کی کھاٹ بولی نا
گُھڑ پو پھیکے سو ٹاٹ بولی نا
مِنجے چپکیا سو چمبو بولی نا
مِنجے تڑخیا سو بمبو بولی نا
مِنجے دُنیا کی کٹنی سمجھی گے؟
لال مِرچیاں کی بکنی سمجھی گے؟
مِنجے دمّہ کی دُھکنی سمجھی گے؟
مِنجے پھٹی سو پھکنی سمجھی گے؟
مرد آنے دے پیٹھ پھوڑونگی
تیری تربت بنا کو چھوڑونگی
کتے جاتے ہیں تو بھی جانا گے
آکو قے دس تجے لِجانا گے
گھس کو مرچیاں تجے لگانا گے
پورے پیراں کے ہاتھ جوڑونگی
مٹھے گھوڑے بنا کو چھوڑونگی
میرے دِل کو سکون مل جئینگا
سُکی ڈالی پو پھول کھل جئینگا
❦ ❦ ❦
بہو:
(آنکھوں میں آنسو لا کر گلو گیر آواز میں)
ہم گھرانے کی شان رکھتے ہیں
بند مٹھی کی آن رکھتے ہیں
گھر کی عزت کا پاس ہے ورنہ
ہم بھی منھ میں زبان رکھتے ہیں
اپنی تعلیم روک دیتی ہے
بات بڑھتے ہی ٹوک دیتی ہے
یہ نہ بھولو کہ تم بھی بیٹی ہو
بیٹی ہر گھر کی اِک اَمانت ہے
بیٹی مریم ؑ ہے، بیٹی زہرا ؓ ہے
بیٹی رحمت ہے، بیٹی جنت ہے
بیٹی سیتا ہے اور ساوِتری
بیٹی عنوانِ درسِ عبرت ہے
بیٹی کہتے ہیں بے زُبانی کو
بیٹی پتھر کی ایک مورت ہے
اِک کی بیٹی جو گھر کو آتی ہے
اپنی بیٹی بھی گھر سے جاتی ہے
٭ ٭ ٭