خاطب
یاد بولے تو تکیئے میں گجرے کی باس جیسے کیوڑے کا کانٹا کلیجے کے پاس
یاد بولے تو بچپن میں چھوڑے سو گاؤں جیسے پن گھٹ کے پانی میں رادھا کی چھاؤں
❦ ❦ ❦
یاد بولے تو خالی دِوانے کا خواب ایک بچے کا جیسے ادھورا جواب
یاد بولے تو پلکاں پو آنسو کی لوٹ کالے بادل پو چاندی کی چمکیلی گوٹ
❦ ❦ ❦
یاد روتے سو انکھیاں میں گوری کا روپ جیسے پڑتے سو پانی میں ہلکی سی دھوپ
یاد بولے تو آنسو کی ٹوٹی لڑی گھپ اَندھارے میں چھوٹی ہوئی پھلجھڑی
❦ ❦ ❦
یاد بولے تو جوہی کی کھلتی کلی سوتے بالک کے ہونٹاں پو جیسے ہنسی
یاد بولے تو ریتی پو مدھم لکیر جیسے بارے میں اُڑتی ہے ہلکی عبیر
❦ ❦ ❦
یاد بولے تو چلمن کے پیچھے ہنسی دُور جنگل میں جیسے کوئی روشنی
یاد بولے تو بچپن کی بھولی نراس لال اُودی دھنک کو پکڑنے کی آس
❦ ❦ ❦
یاد بولے تو اَنکھیاں جھکانے کا نام ایک نقشہ بنا کو مٹانے کا نام
یاد بولے تو دل میں چھپانے کی بات چُپ ذرا سونچ کو مسکرانے کی بات
٭ ٭ ٭